سرکاری اسکولوں کی صورت حال(صائمہ احمد، جامعہ کراچی)

سرکاری اسکولوں کی صورتِ حال 

مکرمی ! کراچی میں سرکاری اسکول بدحالی کا شکار ہیں شہر کے کئی اسکول ٹوٹی ہوئی عمارتیں ہیں اور کہیں اسکول صرف دستاویزات میں موجود ہیں ۔ گھوسٹ اساتذہ ، سفارشی بھر تیاں ہوتی ہیں ۔ ایسے میں غریبوں ، مزدوروں کے بچوں کا  مستقبل ماں باپ کے حال کے عکس کے سوا کیا  ہوسکتاہے ؟ اسکولوں میں بنیادی سہولیات موجود ہی نہیں ۔ جیسے پینے کا صاف پانی تک نہیں ہے ۔ کئی اسکولوں کی چار دیواری موجود نہیں اور ان میں لڑکیوں کے اسکول بھی شامل ہیں ۔ صفائی کا کوئی نظام نہیں ۔ میری آپ کے معتبر اخبار کے توسط سے متعلقہ حکام سے یہ درخواست ہے کہ تعلیمی شعبے کو بہتر بنانے کے لئے مناسب اقدامات اُٹھائیں تاک معاشرے میں اچھی اور جدید تعلیمی نظام فروغ پاسکے ۔ جدید تعلیم موجود ہ حالات میں اہم ہے۔ 
صائمہ احمد ، جامعہ کراچی 

شعبہ ابلاغ عامہ

غیرحاضر بس اسٹاپ(صائمہ احمد، جامعہ کراچی)

غیر حاضر بس اسٹاپ

مکرمی ! کراچی ایک بڑا شہر ہے عام شہری اپنے آنے جانے کے لئے سب سے زیادہ بسوں کا استعمال کرتے ہیں لیکن کراچی کے بیشتر علاقوں میں بس اسٹاپ موجود ہی نہیں اور وہاں لوگوں کو فٹ پاتھوں اور کہیں تو سڑک پر کھڑے ہو کر بسوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے جس سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور جہاں اسٹاپ موجود ہیں بسیں وہاں نہیں رُکتیں بلکہ سڑکوں پر کہیں بھی رُک جاتی ہیں جو حادثات کا باعث بنتا ہے میری آپ کے موقرر وزنامے کے توسط سے متعلقہ حکام سے درخواست ہے کہ ہرعلاقہ میں بس اسٹاپ قائم کریں تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
صائمہ احمد ، جامعہ کراچی 

شعبہ ابلاغ عامہ

کم عمری میں شادی، تحریرصائمہ احمد، جامعہ کراچی

کم عمری میں شادی

ہمارے معاشرے میں کم عمری کی شادیاں خاص طور پر گاؤں دیہات اور کچی آبادیوں میں عام پائی جاتیں ہیں معاشرے میں ایک عمر لڑکی کی شادی کردی جاتی ہے جو عمر اس کے کھیلنے کی ہوتی ہے  ایک لڑکی میٹرک کے بعد شاد ی کردی جاتی ہے اور اس وجہ سے وہ تعلیم کی کمی وجہ سے کم عمر لڑکی نہ سمجھ ہونے کی وجہ ےس اپنی ازدواجی زندگی  کی ذمہ داری سے نا آشنا ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس لڑکی کی ازدواجی زندگی میں بہت سے مشکلات درپیش آنے لگتی ہے اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے میں روزنامہ اُمّت کے توسط سے عوام اور حکومت سے گزارش ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور ایک معاشرے کی بہتری کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں ۔ 
صائمہ احمد ، جامعہ کراچی 

شعبہ ابلاغ عامہ

جدید شہری کچی بستیاں…صائمہ احمد ،جامعہ کراچی

میرا آج کا موضوع ہے جدید شہر کی کچی ، بستیاں، پاکستان کا شمار تیسرے درجے کے ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے ۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے معاشی اور روشنیوں کے شہر کراچی کا شمار دنیا کے 7 بڑے شہروں میں ہوتا ہے جہاں دو ر جدید کی تقریباً   سہولت  (خوبصورت پارکس بڑی عمارتیں ، شاپنگ پلازہ وغیرہ) موجود ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی کراچی کا ایک دوسرا پیکو بھی ہے جو کچی بستیوں اور ان میں رہنے والے غریب عوام پر مشتمل ہے ۔ کراچی میں قائم کچی بستیوں اور ان میں رہنے والے غریب عوام پر مشتمل ہے کراچی میں قائم میں قائم کچی بستیوں ، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں ، سیوریج کی ٹوٹی لائنوں اور بھوکے غریب پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوگا کہ اس دنیا کے ساتویں بڑے شہر کا حال بہت ہی برا ہے  شہر کراچی صرف نام بڑا نہیں بلکہ رقبے کے لحاظ سے 3.527 مربع کلو میٹر پر واقع ہے جس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی زندگی گزار رہا ہے یہاں بسنے والے لوگ پاکستان کے ہر کونے سے تعلق رکھتے ہیں اندرون شہروں سے روزی کو تلاش میں آئے افراد بے گھر ہونے کے باعث جہاں خالی جگہ دیکھتے ہیں ڈیرہ ڈال کہتے ہیں اور یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے جس کی وجہ  سے خوبصورت شہر کراچی کا نقشہ بگڑ کر رہ گیا  ہے اور جگہ  جگہ کچی بستیاں قائم ہوگئیں  جو شہر کی خوبصورتی ، ہر بدنما داغ کی طرح نظر آتی ہیں باقاعدہ قانونی کاغذات نہ ہونے کی بنا ء پر ان گھروں کا اندراج نہیں ہوپاتا  جس کی وجہ  سے ان میں رہنے والے لوگ حکومت کی دی گئی بہت سی  سہولیات سے محروم رہتے ہیں جبکہ ان جگہوں پر اکثر بھی اور گبس چوری ہونے کی شکایت بھی وصول ہوتی ہیں میری انتظامیہ سے گزارش ہے کہ شہرمیں قائم ان کچی بستیوں  کا نوٹس لیا جائے یا تو ان میں رہنے والے لوگوں کو کوئی مستقل ٹھکانہ فراہم کیا جائے جس کا قانونی طور پر باقاعدہ اندراج کیا جائے یا پھر ان میں سالوں سے رہائش پذیر  افراد کو اس خوف سے نجات مل جائے انہیں کوئی بھی کسی بھی وقت گھر سے نکال دے گا۔ 

صائمہ احمد ، جامعہ کراچی 

شعبہ ابلاغ عامہ 

نواب شاہسابق صوبائی مشیر اسماعیل ڈاہری کی ڈاہری نوجوان اتحاد کے رہنما اے کے ڈاہری اور انکی ٹیم سے ملاقات کی ، 

نواب شاہ

سابق صوبائی مشیر اسماعیل ڈاہری کی ڈاہری نوجوان اتحاد کے رہنما اے کے ڈاہری اور انکی ٹیم سے ملاقات کی ، اس موقع پر انہوں نے ڈاہری برادری کے موجودہ مسائل پر تبادلہ خیال کیا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر سید ناصر علی شاہ کیجانب سے ڈاہری کو بھتہ خور کہنے والے الفاظ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اورمیں پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت سے اس بارے میں بات بھی کرونگا کہ سید ناصر علی شاہ نے جو حرکت کی ہے اس سے پوری ڈاہری برادری کی دل آزاری ہوئی ہے اور میں بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ سید ناصر علی شاہ تمام ڈاہری برادری سے معافی مانگے ،نہیں تو میں اپنی ڈاہری برادری کیساتھ ہوں اور رہوں گا اورآگے کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

نوابشاھ:شھری سٹیزن فار بیٹر انوائرنمنٹ آرگنائزیشن کے زیراہتمام مقامی ہوٹل میں نوابشاھ شھر میں ٹریفک کے مسائل پر ایک سیمینار انعقاد کیا گیا 


​نوابشاھ:

شھری سٹیزن فار بیٹر انوائرنمنٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں نوابشاھ شھر میں ٹریفک کے مسائل پر ایک سیمینار انعقاد کیا گیا جس میں سول سوسائٹی ، ایڈووکیٹ، صحافیوں سمیت مختلف تنظیموں کے افراد نے شرکت کی، سیمینار کے مھمان خصوصی ایس پی ھیڈکوارٹر محمد عاصم جسرا، اسسٹنٹ کمشنر نوابشاھ ڈاکٹر فیصل سلیم تھے،مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھتر نظام کرنے  میں رکاوٹ ناجائز تجاوزات ہیں دکانداروں نے فٹ پاتوں پر قبضہ کر رہکھا ہے جو پیدل چلنے والوں کے لیے بنائے گئے تھے فٹ پاتھوں سے متصل ریڑھیاں اور ٹھےلے لگادیئے گئے ہیں جس کی وجہ ٹریفک نظام مفلوج ہوکر رہ گیا ہے جب تک ناجائز تجاوزات کا خاتمہ نہیں ہوگا اس وقت تک ٹریفک نظام بھتر نہیں ہوسکتا، کارپارکنگ کے لیے مخصوص جگہ مختص کی جانی چاہیے راستوں پر گاڑی پارک کرکے ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالتے ہیں، ٹریفک پولیس کو بھی ٹریفک قانین کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے اگر کوئی کتنا ہی بااثر کیون نہ ہو غلط پارکنگ پر اسے قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے، اس سیمینار میں ایس پی ھیڈکوارٹر محمد عاصم جسرا، اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر فیصل سلیم، ٹریفک سارجنٹ، وکلا ایڈووکیٹ عبدالسلام ڈاھری، محمد علی عباسی،  غلام   سرور ڈاھری،ایڈووکیٹ ثمر ڈاھری ، صحافی اے کے ڈاہری، سول سوسائٹی کے معزز وقاص سلیم بیگ، منظور میمن ، علی شیر ڈاھری سمیت دیگرافراد نے شرکت کی.